ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیگوسرائے پارلیمانی حلقہ: کنہیا، گری راج اور تنویر حسن کے درمیان دلچسپ سہ رخی مقابلہ

بیگوسرائے پارلیمانی حلقہ: کنہیا، گری راج اور تنویر حسن کے درمیان دلچسپ سہ رخی مقابلہ

Sun, 28 Apr 2019 11:54:10    S.O. News Service

پٹنہ،28/اپریل (ایس او نیوز؍یواین آئی) کبھی بہار کا لینن گراڈ کہے جانے والے بیگو سرائے پارلیمانی حلقہ میں اس بار کے لوک سبھا انتخابات کے دوران 2/ سخت مخالفین، دائیں بازو کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے فائر برانڈ گری راج سنگھ اور کمیونزم کی کمزور پڑتی دھارا کو دوبارہ مضبوط کرنے کی امید بن کر ابھرے ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے کنہیا کمار کے مابین دلچسپ مقابلہ کے درمیان مہاگٹھ بندھن امیدوار تنویر حسن کے کود نے کی وجہ سے ہو رہے سہ رخی مقابلہ پر پورے ملک کی نگاہیں لگی ہیں۔ قومی شاعر رام دھاری سنگھ ”دنکر“ کی جنم بھومی بیگو سرائے میں لوک سبھا انتخابات میں گری راج سنگھ اور کنہیا کمار میں براہ راست مقابلہ مانا جا رہا تھا۔ لیکن 5/پارٹیوں کے مہاگٹھ بندھن کی جانب سے آر جے ڈی کے تنویر حسن کو امیدوار بنائے جانے سے یہاں مقابلہ سہ رخی اور دلچسپ ہو گیا ہے۔ مہاگٹھ بندھن نے اپنا امیدوار اتار کر بیگو سرائے میں بی جے پی مخالف ووٹ حاصل کرنے کے کنہیا کی حکمت عملی کو ایک طرح سے دھچکا لگایا ہے۔ اب بی جے پی مخالف ووٹ آرجے ڈی اور سی پی آئی کے درمیان تقسیم ہو سکتے ہیں۔اس سیٹ پر بی جے پی، سی پی آئی اور آر جے ڈی تینوں اپنے امیدوار کی جیت یقینی بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ گری راج سنگھ کے حق میں بی جے پی کے اسٹار پرچارک جم کر روڈ شو اور ریلیاں کر رہے ہیں۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے حال میں انتخابی ریلی کی، وہیں بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی اور بی جے پی کے دیگر سینئر لیڈر بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف کنہیا کے پرچار کے لئے طلبہ طالب علمی کے دوران سیاست کے آزمائے گئے چھوٹے چھوٹے ذرائع کا استعمال کر رہے ہیں۔ کنہیا دن کو ریلیاں تو رات کو نکڑ ناٹک کے ذریعہ ووٹ مانگ رہے ہیں۔ ان نکڑ ڈراموں میں اچھی خاصی بھیڑ جمع ہو رہی ہے۔مہم کے دوران کنہیا گھر گھر جا کر جہاں بزرگوں سے آشیرواد لیتے ہیں وہیں نوجوانوں کے درمیان ان کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ بیگو سرائے علاقہ کے بزرگوں کو کنہیا میں ملک کی سیاست کا چمکتاستارہ دکھائی دے رہا ہے تو نوجوانوں کو ایک ایسا ساتھی جو تمام بندشیں توڑکر انہیں ساتھ لے کر چلنے کی ضد میں ہے۔ کنہیا کا کارواں جے این یو، دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھیوں کے ساتھ ڈفلی کی تھاپ پر تھرکتا بھی ہے اور ”زمینداروں اور سرمایہ دارانہ نظام سے آزادی“ کے لئے للکارتا بھی ہے۔ وہ آدھی آبادی کے لئے بھی ”خواتین مانگے آزادی وہ بھی آدھی۔آدھی“ جیسے نعرے بھی لگاتا ہے۔ کنہیا کے انتخابی پرچار کوبالی ووڈ کا بھی ساتھ مل رہا ہے۔ نغمہ نگار جاوید اختر کے علاوہ اداکارہ شبانہ اعظمی اور سورا بھاسکر اور اداکار پرکاش راج کنہیا کے حق میں پرچار کر چکے ہیں۔ اتنا ہی نہیں سیاست میں نئی لکیر کھینچ رہے کنہیا ایک ایسے آئیکان بن گئے ہیں کہ ان کو ترجیح دینے سے میڈیا بھی خود کو نہیں روک پا رہا ہے۔ قومی ٹیلی ویژن چینلز اور پرنٹ میڈیا کے سینئر اور نامور صحافی بیگو سرائے کا چکر لگارہے ہیں۔ وہیں آر جے ڈی امیدوار تنویر حسن کے حق میں مہاگٹھ بندھن کے اسٹار کمپینر اور بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر تیجسوی یادو کے علاوہ دیگر رہنما بھی زور لگا رہے ہیں۔اس علاقہ میں کبھی کبھی سخت مخالف نظریات کا تصادم بھی دکھائی دے رہا ہے۔ مخالف نظریہ کے لوگ کنہیا کو سیاہ پرچم بھی دکھا رہے ہیں۔ ایک روڈ شو کے دوران کورائے گاؤں میں کنہیا کو نہ صرف سیاہ پرچم دکھائے گئے بلکہ ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ اس کے بعد دونوں فریقوں میں تصادم اور مارپیٹ ہوئی۔ معاملہ تھانہ بھی پہنچا اور ایف آئی آر بھی ہوئی۔ان نشیب و فراز کے درمیان بیگو سرائے میں چوتھے مرحلے میں 29/اپریل کو پولنگ ہوگی۔


Share: